اسرائیلی بلدیہ کےاہلکاروں نے صہیونی فوج کی بڑی تعداد کی حفاظت میں مقبوضہ بیت المقدس کے علاقوں شعفاط، بیت حنینا اور سلوان میں چار فلسطینی گھروں اور دیگر تعمیرات کو منہدم کرنے کے نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ وکیل زیاد عبد الحمید نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ شعفاط میں لڑکوں کے ایک اسکول کے قریب ایک چھ منزلہ عمارت، کار واش سنٹر اور بیت حنینا میں بھی ایک عمارت کو گرانے کا کہا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ایسی عمارت کو بھی گرانے کی ہدایت کردی گئی ہے جو 1999ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس عمارت کو تعمیر کرنے کے لیے مقامی اتھارٹی سے اجازت بھی لی گئی تھی تاہم اسرائیلی بلدیہ نے یہ اجازت بھی منسوخ کردی ہے۔
عبد الحمید نے بتایا کہ صہیونی بلدیہ نے گھروں اور دیگر عمارتوں کو گرانے کے احکامات کی تجدید شروع کردی گئی ہے۔ اس سب کا مقصد فلسطینیوں کو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھر گرانے پر مجبور کرنا ہے تاکہ گھروں کو گرانے کے اخراجات بھی بچائے جا سکیں۔
ادھر ایک واقعے میں اسرائیلی سرحدی گارڈز نے القدس کے ایک تیرہ سالہ بچے پر زہریلی گیس چھوڑ کر زخمی کردیاہے۔ بچہ القدس کے وسطی علاقے باب الساھرہمیں موجود تھا کہ اس کو اس جارحیت کا نشانہ بنایا گیا۔ بچے کے والد جمال الصیام کا کہنا ہے کہ ان کا بچہ بازار میں ان کے ساتھ تھا کہ تھوڑی دیر کے لیے غائب ہوگیا، بچے نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی گاڑی اچانک اس کے قریب آکر کھڑی ہوئی، ایک فوجی نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور اس پر زہریلی مرچوں والی گیس کا سپرے کردیا، جس کے بعد بچے کی آنکھیں شدید متاثر ہوئیں اور اسے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے اس بازار میں بارہا اسی طرح کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ادھر صہیونی فوج نے القدس کے العیسویہ ٹاؤن میں ایک گھر پر حملہ کرکے ایک بچے کو گرفتار کرلیا ہے۔ بچےکےگھروالوں نے بتایا کہ صہیونی اہلکاروں نے حملے کے دوران انہیں شدید زدوکوب کیا اور ان کے بچےکو گرفتار کرکے تفتیشی مرکز ”مسکوبیہ” منتقل کردیا گیا ہے۔
صہیونی فوج نے بیت حنینا کالونی سے بھی ایک نوجوان کو بھی اغوا کرلیا ہے۔ اس نوجوان کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
القدس کی اولڈ میونسپلٹی کے علاقے باب حطہ کالونی سے بھی ایک تیرہ سالہ فلسطینی نونہال کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس پر یہودی آباد کاروں پر پٹرول بم برسانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم بچے کے والد نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل گزشتہ جمعرات کے روز اس بچے کے بھائی کو بھی گرفتار کر چکی ہے جس کی عمر پندرہ سال تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
