مقبوضہ بیت المقدس کی ایک اسرائیلی مجسٹریٹ عدالت نے القدس کی صہیونی بلدیہ کے اقدامات کے خلاف فیصلہ جاری کرتے ہوئے کوہ الطور پر ’’نیشنل پارک‘‘ کی تعمیر کا جاری کام روکنے کی ہدایات کی ہیں۔
عدالت نے اسرائیلی حکام کو الطور اور عیسویہ کالونی میں کسی قسم کے رد و بدل سے باز رہنے کا کہا ہے۔
عدالت نے القدس کی 760 ایکڑ اراضی پر محیط نیشنل پارک کے تعمیر کو القدس میں موجود تاریخی علامات کو تبدیل کرنا قرار دیا۔
قبل ازیں الطور کالونی کے باشندے صبری خویص کی نیابت میں دو وکیلوں محمد دحلہ اور عمیر مرید نے عدالت میں اسرائیلی بلڈوزروں کی جانب سےعلاقے میں انہدامی کارروائیوں کے خلاف درخواست دائر کر دی تھی۔
گزشتہ روز اسرائیلی انتظامیہ کے بلڈوزروں اور فوجی ٹینکوں کی بڑی تعداد نے اس علاقے پر دھاوا بول کر بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی،اس دوران اسرائیلی انتظامیہ کے سامنے مزاحمت کرنے والے پانچ فلسطینی نوجوانوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک نہتے شہری پر حملے، بہیمانہ تشدد اور اس کی گرفتاری کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
فلسطینی وکیل دحلہ نے فلسطینی شہری کی مدعیت میں عدالت سےدرخواست کی تھی کہ 760 ایکڑ اراضی پر جاری اسرائیلی انہدامی کارروائیوں کو فی الفور روکا جائے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسرائیلی بلدیہ نے علاقے میں کھدائیاں کرنے، شاہراہوں کو اکھاڑنے اور زرعی زمین کو روندنے کے احکامات صادرکر دیے ہیں کو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب ابھی تکنیشنل پارک کے منصوبے نمبر 11092 پر کام شروع نہیں ہوا۔
القدس کی اراضی پر یہودی ’’نیشنل پارک‘‘ تعمیر کرنے کے لیے ایک انتہاء پسند صہیونی تنظیم پیش پیش ہے، تنظیم کے سربراہ افتیار کوھن، جن کاتعلق عوفر یہودی بستی سے ہے، کی ہدایات پر علاقے میں کھدائیوں کا کام شروع کر دیا گیا۔

