اسرائیلی پارلیمان میں مشرقی اور مغربی متحدہ القدس کو یہودی ریاست کا دارالخلافہ بنانے کی تائید میں قرار داد پیش کیے جانے کے ردعمل میں فلسطینی نوجوانوں نے فیس بک پر ایک مہم شروع کی ہے
جس میں سنہ 2012ء میں القدس کو اسلامی اور عرب دنیا کا دارالخلافہ قرار دیا گیا ہے۔
سماجی ویب سائٹ کی معروف ویب سائٹ فیس بک پر مہم چلانے والی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ فلسطینی مقدس مقامات اور املاک پر اسرائیلی حملے تیز ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح فلسطینی دارالخلافہ کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کوششیں جاری ہیں، مسجد اقصی کے نیچے کھدائیوں کے ساتھ ساتھ اس کے مراکشی دروازے کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ ان اسرائیلی جارحیتوں کے بعد امت مسلمہ کو متحد ہو کر قبلہ اول کی حفاظت کرنا ہو گی۔
فلسطینی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو القدس کو یہودی دار الخلافہ قرار دینے کے لیے القدس کے اصل شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔
فیس بک پر چلائی گئی مہم میں یاد دلایا گیا کہ اسرائیلی کنیسٹ گزشتہ پچیس دسمبر کو القدس کو یہودی دارالخلافہ بنانے کی تائید کر چکی ہے۔ چنانچہ اب القدس کے تحفظ کے لیے تمام فلسطینی جماعتوں کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہو گی۔

