عوفر کی اسرائیلی عدالت نے حال ہی میں مغربی کنارے کے قدیم تاریخی شہر الخلیل کے علاقے بیت امر کے رہائشی آٹھ فلسطینی بچوں کو شہر بدر کرنے کے احکامات صادر کر دیے ہیں۔
بیت امر کی مقامی کونسل کے ڈائریکٹر یوسف ابوماریا نے بتایا کہ علاقے میں صہیونی عدالت نے جن بچوں کو بیت امر سے کم از کم چالیس کلومیٹر دور بھیجنے کی ہدایات جاری کیں ان میں سے سب سے بڑے بچے کی عمر سولہ سال ہے۔
ابوماریا کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام نے یہ فیصلہ بچوں کے حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان کی رہائی کے مطالبے کے بعد کیا۔ صہیونی جج کی جانب سے دیے گئے اس فیصلے کے بعد زیر حراست نوعمر فلسطینیوں کے اہل خانہ سخت سیخ پا ہو گئے اور انہوں نے عدالت کے احاطے پر دھاوا بولا دیا۔ تاہم اسرائیلی سکیورٹی اہلکاورں نے تمام افراد کو لاٹھی چارج کر کے عدالت احاطے سے باہر دھکیل دیا۔
قومی کمیٹی بیت امر کے کوآرڈینیٹر کے مطابق شہر بدر کیےگئے بچوں میں پندرہ سالہ زین ھشام ابو ماریا، پندرہ سالہ باسل علی ابو ماریا، سولہ سالہ سائد عماد صلیبی، سولہ سالہ احمد محمود صلیبی، سولہ سالہ عایس خالد عوض،پندرہ سالہ سامر عامر ابو جود، چودہ سالہ مھاب جواد اور پندرہ سالہ بلال محمود عوض شامل ہیں۔ ان سب بچوں پر اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کرنے کے الزامات ہیں۔
وکیل ابو ماریا نے صہیونی عدالتی فیصلے کو ظالمانہ قرار دیا اور انسانی اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تمام قومی اور عالمی تنظیموں سے اس ضمن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

