مسجد اقصیٰ کی تعمیر و مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ نے مسجد اقصیٰ سے محض 200 میٹر دور ایک بڑے یہودی معبد "جوھرہ اسرائیل” کی مزید تفصیلات اور نقشے جاری کردیے ہیں۔ یہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب گذشتہ روز صہیونی حکومت نے "جوہرہ اسرائیل” نامی معبد کا باضابطہ طور پر سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔
بیت المقدس کے قلب میں تعمیر کیے جانے والے اس بڑے یہودی معبد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں اسرائیلی حکومت کے کئی اہم وزراء، ارکان کنیسٹ، سیاست دان اور بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے چیئرمین نیر برکات سمیت بڑی تعداد میں یہودیوں نے شرکت کی۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکومت نے "جوھرہ اسرائیل” معبد کی تعمیر کے لیے 50 ملین شیکل کی رقم مختص کی ہے، جسے کا بینہ کے آج بدھ کے اجلاس میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ادھر اقصیٰ فاؤنڈیشن نے مسجد اقصیٰ کے پہلو میں "جوہرہ اسرائیل” نامی یہودی معبد کی تفصیلات، تصاویر اور نقشے بھی جاری کردیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے معبد کے بارے میں جو دستاویزات جاری کی گئی ہیں ان میں حسب معمول بیت المقدس کی تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی حیثیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان دستاویزات میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ بیت المقدس تاریخی اعتبار سے یہودیوں کا مذہبی مرکز رہا ہے اور یہاں پر کسی بھی قسم کی تعمیرات صرف یہودیوں کا حق ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے "جوہر اسرائی” نامی یہودی معبد کی تعمیر کے لیے جس مقام کا انتخاب کیا ہے وہ سنہ 1967 ء میں فلسطینیوں کی ایک گنجان آباد بستی تھی۔ لیکن سنہ ستاسٹھ کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلی فوج نے اس علاقے پرقبضہ کرکے فلسطینیوں کو یہاں سے نکال دیا اور یہاں پر”یہودی کالونی” کے نام سے یہودیوں کے لیے قصبہ تعمیر کیا گیا۔ اس میں یہودی معبد کے لیے جو جگہ مختص کی گئی ہے وہ دراصل مسجد اقصیٰ کی وقف املاک کا حصہ ہے، لیکن صہیونی ریاست دھونس اور دھاندلی کے ذریعے یہاں پرمعبد کی تعمیر کررہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معبد 378 مربع میٹر چوڑا ہے، جس میں 275 مربع میٹر کی جگہ صرف یہودیوں کی عبادت کے لیے مختص ہوگی۔ معبد کے سامنے 103 مربع میٹر کا ایک بڑا پارک بنایا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں مزید سیکڑوں مربع میٹر رقبہ یہودی معبد میں شامل کرتے ہوئے اس کا کل رقبہ 1400 مربع میٹر تک لے جایا جائے گا، جس پر چھ منزلہ عمارت کھڑی کی جائے گی۔ ان میں سے دو منزلیں زیرزمین اور چار سطح زمین پر ہوں گی۔
خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کے پہلو میں گذشتہ کچھ عرصے سے تعمیر کیا جانے والا یہ تیسرا برا یہودی معبد ہے، جو اب تک کے تمام معابد میں بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ سے اونچائی میں بھی بلند رکھا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
