فلسطین کی منظم مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے قطر کی میزبانی میں صدر محمودعباس اور تنظیم کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے مابین طے پائے مفاہمتی معاہدے اور اس ضمن میں حماس کی قیادت میں اختلافات سے متعلق خبروں کی سختی سےتردید کی ہے۔
حماس کے ترجمان ڈاکٹر فوزی برھوم کا کہنا ہے کہ اعلان دوحہ کے بارے میں فلسطین کے اندر اور باہر موجود حماس کی قیادت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حماس کے ترجمان نے کہا کہ میڈیا میں حماس کے قیادت کے مابین اعلان دوحہ سے متعلق اختلافات کی خبریں قطعی بے بنیاد ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس فلسطین میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ سنجیدگی سےمفاہمت چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں قطر کی میزبانی میں دونوں جماعتوں کے مابین جو معاہدہ طے پایا ہے حماس کی قیادت نہ صرف اس کو تسلیم کرتی ہے بلکہ تمام مفاہمتی نکات پران کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت مفاہمت کے عمل کو آگےبڑھانے کے لیے مختلف دیگر جماعتوں کے ساتھ ہرممکن تعاون جاری رکھے گی، لیکن فریق ثانی محمودعباس کی جماعت الفتح کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مغربی کنارے میں مفاہمتی فضاء پیدا کرنی چاہیے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ وہ فلسطینی قوم دستور اور قومی اصولوں کے عین مطابق ہو۔ اگر مفاہمت کا کوئی نکتہ قومی اصولوں کےخلاف ہو گا تو حماس کی پوری قیادت اس کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک میںصدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد عمل میں لانے کی تیاری کر رہے ہیں اس ضمن میں مفاہمت کا عمل آگے بڑھانا ہے۔

