فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے اندرون اور بیرون ملک فلسطینیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی اسیران کی رہائی ہماری گردنوں پرقرض ہے اور جب تک انہیں رہا نہیں کرا لیا جاتا فلسطینی عوام ،حماس اور غزہ کی حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام فلسطینی چاہے وہ اندرون ملک ہوں یا بیرون ملک اور اسیران کی رہائی کو اپنی اولین ترجیح بنا لیں تو صہیونی جیلوں میں قید کاٹنے والے قوم کے بیٹے دنوں میں رہائی پاسکتے ہیں۔
فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی میں ریڈ کراس کے دفترکے باہرفلسطینی اسیران کے اہل خانہ اوردیگرشہریوں کے اسیران سے یکجہتی کے لیے لگائے گئے ایک کیمپ میں نماز جمعہ پڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اسیران اپنے جائز اور مسلمہ حقوق کے حصول کے لیے عام بھوک ہڑتال کرنے پرمجبورہیں، دنیا کو ان کی مجبوریوں اور مشکلات کا احساس کرتے ہوئے صہیونی مظالم سے نجات دلانے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔
وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے قوم کو اسیران کے اتحاد کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرفلسطینی اسیران صہیونی جیلوں میں ایک ہوسکتے ہیں توقابض صہیونی مظالم کےخلاف فلسطینی عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کو بھی متحد ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فلسطینی اسیران کی رہائی پوری قوم کی گردنوں پرایک قرض ہے اور اس قرض کو چکانے کے لیے قوم کے تمام طبقات کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

