قابض اسرائیل کی جیل میں بھوک ہڑتال کے بعد حالت خراب ہونے کے بعد اسپتال میں بھوک ہڑتالی اسیر بلال نبیل ذیاب کومےمیں چلےگئے ہیں۔ ستائیس سالہ بلال ذیاب گذشتہ 66 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال کرر ہے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیر بلال ذیاب کے وکیل جواد بولس کا کہنا ہے کہ اس کے موکل نے منگل کے روز رملہ جیل میں اچانک بول چال بند کردی۔ طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ کومے میںچلے گئے ہیں، کوشش کے باوجود انہیں ہوش میں نہیں لایا جا سکا۔
خیال رہے کہ طویل بھوک ہڑتالی اسیربلال ذیاب کا تعلق مغربی کنارے کے شہر جنین سے ہے۔ اس نے اٹھائیس فروری کو انتظامی حراست کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی، جو اب بھی جاری ہے۔ جواد اس کے دیگر بھوک ہڑتالی ساتھیوں کی خرابی صحت کی وجہ سے ان کی جانوں کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں اور عالمی سطح پران کی رہائی کے مطالبات بھی کیے جارہے ہیں تاہم صہیونی حکومت نے تمام عالمی مطالبات نظرانداز کردیے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بلال ذیاب کی صحت پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلال کی جان کو خطرہ ہے اور اگراس نے ہڑتال جاری رکھی اور کچھ کھایا نہ پیا تو ہ اسے کسی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

