فلسطین میں سیاسی بنیادوں پر رام اللہ اتھارٹی کی جیل میں قید کے بعد رہائی پانے والی اسلامی جہاد کے کمانڈر بلال زیاب نے کہا ہے کہ گرفتاری سے قبل عباس ملیشیا کی جانب سے اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں دی
جاتی رہی ہیں۔ بلال کا کہنا ہے کہ جب اسے حراست میں لیا گیا تو جیلوں میں اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اسے یقین ہوگیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس حکام کی دھمکیاں درست تھیں کیونکہ یہ لوگ مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رہائی کے بعد جنین شہر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نوجوان فلسطینی رہ نما بلال زیاب نے بتایا کہ گرفتاری سے قبل عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حکام نے کئٰی بار ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے۔ ایک مرتبہ ایک انٹیلی جنس افسر نے مجھے ایک تحریری پیغام بھیجا جس میں کہا گیا تھا کہ میں فوری طور پر خود کو حکام کے حوالے کر دوں ورنہ میرا انجام شہید حمزہ ابو الھیجاء کی طرح ہوگا۔ خیال رہے کہ حمزہ ابو الھیجاء کو عباس ملیشیا نے دوران حراست تشدد کرکے شہید کردیا تھا۔ وہ بھی اسلامی جہاد کے مغربی کنارے میں ایک سرگرم رہ نما تھے۔
ادھر سوشل میڈیا پر فلسطینی شہریوں نے بلال زیاب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پر "ہم سب بلال زیاب ہیں” کے عنوان سے بنائے گئے پیج کو سیکڑوں افراد نے لائیک کیا ہے۔ صفحے پر بلال کی تصاویر پوسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں نے بھرپور تبصرے کیے ہیں اور سیاسی بنیادوں پر شہریوں کو حراست میں لینے پر فلسطینی اتھارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
خیال رہے کہ نوجوان بلال زیاب کئی بار فلسطینی اتھارٹی کی جیلوں میں قید رہے جبکہ انہوں نے اسرائیل کی جیلوں میں بھی سات سال قید کاٹی ہے۔ آخری مرتبہ انہیں دو سال قبل 78 دن کی مسلسل بھوک ہڑتال کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ رہائی کے بعد انہیں عباس ملیشیا نے دھر لیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
