اسرائیلی سیٹلائٹ چینل نے صہیونی فوج کی حفاظت میں مسجد اقصی پر دھاوا بولا اور مسجد کے احاطے میں مزعومہ ھیکل سلیمانی پر مبنی فلم کی عکس بندی کی ہے۔ قبلہ اول کے احاطے میں ھیکل سلیمانی کے ماڈل کی فلم بندی نے نمازیوں کو مشتعل کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ درجنوں یہودی آبادکار اور ٹی وی چینل کے عملے نے مسجد میں گھس کر علی الصبح ہی گشت کرنا شروع کر دیا تھا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ شر پسند یہودی آباد کاروں کا یہ حملہ اسرائیلی وزیر خارجہ کے اس انکشاف کے دس روز بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے نعوذ باللہ قبلہ اول کو شہید کر کے اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے حوالے سے فلم بنانے کا اعلان کیا تھا۔
اقصی فاؤنڈیشن نے بتایا کہ حملہ کرنے والوں میں دائیں بازو کی اسرائیلی جماعت لیکود پارٹی کے یہودی بستیوں کے متعلق شعبے کے سربراہ یہود کلیک پیش پیش تھا۔ اسی انتہاء پسند یہودی کی ایماء پر مسجد اقصی کے احاطے میں مزعومہ ھیکل کی تعمیر کے منصوبے کی ٹی وی پر اشتہاری مہم چلائی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہودی کلیک ایک انتہاء پسند یہودی ہے تمام یہودی جماعتو ں کو اکٹھا کرنے اور گنبد صخرہ کو منہدم کرکے اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے حوالے سے بھی سرگرم رہا ہے۔
اسرائیلی چینل ٹین کے عملے کے ہمراہ ھیکل سلیمانی کی منظر کشی پر مبنی اس فلم کو بنانے میں بھی یہی یہودی پیش پیش رہا۔ ابو عطایا کا کہنا ہے کہ چینل ٹین نے مسجد اقصی کے صحن میں ھیکل سلیمانی کا ماڈل بنایا ۔ یہودی آباد کار مسجد کے صحنو ں اور راہداریوں میں گشت کرتے رہے اور مسجد اور گنبدہ صخرہ کے مختلف مقامات کی تصاویر لیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودی کلیک پر مسجد اقصی میں داخلے پر پابندی ہے ، آج اس کے قبلہ اول داخل ہونے کے بعد مسجد میں حالات مزید کشیدہ ہو جائیں گے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
