اسرائیلی اراکین پارلیمنٹ(کنیسٹ) نے قانون سازادارے کے جلد از جلد تحلیل کیے جانے اور عام انتخابات کا امکان ظاہر کیا ہے۔ رکن کنیسٹ اوفیر اکونیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ
انہیں ایسے لگ رہا ہے کہ پارلیمنٹ جلد تحلیل ہونے والی ہے اور اگلے چند ماہ میں عام انتخابات ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ماہ قبل وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پارلیمنٹ کو آئندہ سال نومبر تک تحلیل نہ کرنے کا جو سمجھوتہ طے پایا تھا۔ اس پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ لیکوڈ پارٹی کے رکن نے کہا کہ موجودہ حکومتی مخلوط اتحاد میں شامل جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بارے میں حکومتی پارٹیوں کے درمیان جو اختلافات پائے جاتے ہیں ان کا بہتر حل یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے انتخابات کرائے جائیں اور سالانہ قومی بجٹ کی منظوری کو نئی حکومت پر چھوڑ دیا جائے۔ اگر اس تجویز پر اتفاق رائے طے پاگیا تو اگلے چار یا پانچ ماہ میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کرکے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل کے ایک سابق وزیر زاحی ہنمبگی کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ نئے پارلیمانی انتخابات 2013ء کی پہلی ششماہی میں ہوں گے اور انتخابات کا آئندہ سال نومبر تک جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ چند ہفتے قبل بنجن نیتن یاھو کی حکومت نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تیاری کرلی تھی تاہم پارلیمنٹ کی بعض دوسری جماعتوں نے انہیں مزید ایک سال کے لیے حکومت کرنے کا موقع دیا تھا۔ تاہم حکومت اور اپوزیشن میں نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری پر اختلافات ہیں۔ اگر یہ اختلافات برقرار رہتے ہیں تو صہیونی حکومت قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر سکتی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
