اسرائیلی پولیس نے قبلہ اول میں منعقد کیے جانے والے تعلیمی حلقوں میں شرکت کے متمنی تین فلسطینی نوجوانوں کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ مسجد اقصی میں داخل ہو رہے تھے۔ طلبہ کو نامعلوم مقام لے کر تفتیش کی گئی اور ان پر دو ہفتوں کے لیے مسجد اقصی میں داخلے پر پابندی بھی عائد کر دی گئی۔
القدس ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن نے صہیونی جارحیت کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار کیے گئے تینوں نوجوانوں میں سے ان محامید اور مجاہد جبارین کا تعلق سن 1948 کے مقبوضہ فلسطین کے شہر ام فحم سے تھا جبکہ نوجوان فتحی الجمل الجلیل کے گاؤں شعب کا رہائشی تھا۔
فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اسرائیل نے اس وقت پندرہ نوجوان طالب علموں کے قبلہ اول میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ نوجوان مسجد اقصی کے صحنوں میں تعلیمی حلقوں میں شرکت کے لیے یہاں کا رخ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم ان سب کو تعلیمی حلقوں میں شرکت سے محروم کر دیا گیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر خالد زبارقہ کے بہ قول اسرائیل کو مسجد اقصی پر اپنا قبضہ مکمل کرنے میں جن رکاوٹوں کو سامنا ہے ان میں یہ طلبہ و طالبات بھی ہیں جو حصول علم کے لیے مسجد اقصی کی پرمنور فضاؤں میں منعقد کیے گئے علمی حلقوں میں شرکت کرتے ہیں اور دینی علوم حاصل کر کے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کا سامان کرتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے ان طلبہ و طالبات کے خلاف جارحانہ مہم شروع کرتے ہوئے مختلف حیلے بہانوں سے ان طلبہ و طالبات کومسجد میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق مختلف فلسطینی اسکولوں کے سیکڑوں فلسطینی طلبہ و طالبات روزانہ مسجد اقصی کے تحفظ کے لیے علی الصبح مسجد اقصی پہنچ جاتے ہیں اور یہیں پر حصول علم کی سرگرمیاں بھی جاری رکھتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
