قبلہ اول کے امام اور خطیب شیخ عکرمہ صبری نے ایک مرتبہ پھرکہا ہے کہ وہ اسرائیلی ویزے پرعالمی اسلامی شخصیات کے دورہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی مخالفت کےاپنے اصولی فیصلے پرقائم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے ویزہ لے کرالقدس آنے والے فلسطینیوں کے نہیں بلکہ اسرائیلیوں کے دوست ہوسکتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق شیخ عکرمہ صبری نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ "میں ایک نہیں بلکہ باربار یہ کہہ چکا ہوں کہ اسرائیلی حکومت کی اجازت یا اس سے ویزہ لے کر بیت المقدس کا دورہ کرنا قبلہ اول پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کو جائز قرار دینے کی کوشش تصور کی جائے گی۔ لہٰذا کوئی بھی مسلمان جوفلسطین سے باہر سے تعلق رکھتا ہو اور وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت یا القدس کے دورے پر اسرائیل کی مرضی کے مطابق آئے گا اسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح کے کسی بھی اقدام کی شدید مخالفت کی جائے گی”۔ شیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ جب ہم اہالیان القدس کی مدد اور ان کے حقوق کی حمایت کی بات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اسرائیل سے ویزہ لے کر القدس آنا شروع کردیں۔ القدس پورے عالم اسلام کی مشترکہ ملکیت ہے جہاں بغیر کسی ویزے کے مسلمانوں کو آنا چاہیے۔ رہا اسرائیل سے ویزہ لے کر القدس میں داخلہ تو ہم اس کی مخالفت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک بیت المقدس سے صہیونیوں کا قبضہ ختم نہیں ہو جاتا۔
ہم ان تمام مسلمان شخصیات کے اسرائیلی ویزوں پر القدس آمد کی بھی مخالفت کرتے رہیں گے جو اسرائیل کو تسلیم کرکے مقدسات اسلامیہ پراس کا تسلط بھی ثانت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ ماہ مصری مفتی اعظم شیخ علی جمعہ نے اسرائیلی ویزے پر بیت المقدس کا دورہ کیا تھا جس پر نہ صرف فلسطین بلکہ پورے عالم عرب میں سخت بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ عوام اور علماء نے شیخ علی جمعہ کو عہدے سے ہٹانے اور ان کےخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد شیخ جمعہ کو اپنے اس دورے کی وضاحت کرنا اور معافی مانگنا پڑی تھی
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

