مرکراطلاعات فلسطین کے مطابق اتوار کو لائبرمین اپنے دسیوں شرپسند حامیوں، پولیس اور فوج کی سیکیورٹی میں مسجد ابراہیمی میں داخل ہوا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس دورے کا مقصد صرف انتخابی مہم کو آگے بڑھان نہیں بلکہ وہ حرم ابراہیمی اور الخلیل شہر سے دلی عقیدت اور محبت رکھتے ہیں۔ لائبرمین کا کہنا تھا کہ میرا دورہ معمول کا ایک واقعہ ہے جسے بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے۔
وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور ان کی جماعت لیکوڈ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کا کوئی رکن مسجد ابراہیمی کسی دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو دینے کے لیے تیار نہیں جبکہ نیتن یاھو اور ان کی جماعت حرم ابراہیمی کا سودا کرنا چاہتی ہے۔
لایبرمین کا کہنا تھا کہ میں حرم ابراہیمی میں اس لیے آیا تاکہ ان لوگوں کے درمیان میں کچھ دیر بیٹھ سکوں جو حماس کو تباہ کرنا اور فدائی حملے کرنے والوں کو پھانسی دلوانا چاہتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ کےمسجد ابراہیمی پردھاوے کے وقت سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
