اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بار پھر غزہ پر بڑی فوجی کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کی جانب سے یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب قطر کے فرماں روا شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی قطری وفد کے ہمراہ غزہ کا دورہ کر رہے ہیں۔
امیر قطر کی جانب سے غزہ کا یہ دورہ چھ سال سے جاری غزہ کے اسرائیلی محاصرے کا عملی خاتمہ سمجھا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ کی پٹی کی سرحد کے قریب دھماکہ خیز مواد مواد کے پھٹنے سے ایک اسرائیلی فوجی کے زخمی ہونے کے جواب میں کہا کہ اسرائیل اپنے فوجی کے زخمی ہونے کا بدلہ لے گا اور عنقریب غزہ پر بڑا حملہ کیا جائیگا۔
القدس میں اپنے استقبال کے موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ غزہ کے مزاحمت کاروں کو جلد سبق سکھلایا جائیگا۔ یاد رہے کہ پیر کی شام اسرائیلی فوج کی گولہ باری سے غزہ کے علاقے بیت حانون میں تین فلسطینی شہید جبکہ چار زخمی ہوگئے تھے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے یہ حملے امیر قطر کی غزہ آمد کے اعلان کے موقع پر ان کے دورے کو منسوخ کروانے کے لیے کیے تھے۔ امیر قطر اپنے اس دورے میں غزہ کی تعمیر نو کے متعدد منصوبوں کا افتتاح کرینگے۔ قطر کی جانب سے کچھ ماہ قبل ان پروجیکٹس کا اعلان کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے 2008 کے آخر میں 23 روز تک غزہ پر بارود اور کیمیکل مواد کی بارش کرکے 1500 افراد کو شہید، 5000 کو زخمی کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کا سارا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا تھا۔
سن دو ہزار چھ سے جاری غزہ کے محاصرے کے سبب چار سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود غزہ کی تعمیر نو نہ ہوسکی تھی۔ مصری حکومت کی تائید اور حمایت سے امیر قطر کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبوں کے اس ٓغاز پر اسرائیل تلملا اٹھا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
