مصر میں مسیحی برادری کے آرتھوڈوکس مکتب فکرکی جانب سے گیا ہے کہ جب تک بیت المقدس پرغاصب یہودیوں کا قبضہ قائم ہے اس وقت تک اسرائیلی پاسپورٹ پرالقدس کے دورے کا کوئی جواز نہیں۔ مصری آرتھوڈوکس چرچ کی جانب سے یہ بیان بعض مصری قبطی عیسائیوں کے حال ہی میں اسرائیلی پاسپورٹ پر القدس کے دورے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عیسائی پاپ بابا شنودہ کے انتقال کے بعد ان کے قائم مقام پوپ باخو میوس نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کے چرچ نے قبطیوں کے القدس کے دوروں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پیروکاروں کی اس وقت تک بیت المقدس میں داخلے پر پابندی ہے جب تک شہر مقدس پر اسرائیل کا قبضہ برقرار ہے اور اس کے لیے اسرائیلی حکومت نے اپنے ویزے کی شرط عائد کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بابا شنودہ کی تعلیمات پر کاربند ہیں جنہوں نے القدس میں اسرائیلی ویزے کےتحت آمد سےمنع کر دیا تھا۔
ادھر قاہرہ میں القدس سوسائٹی کے رکن اور ایک دوسرے سرکردہ عیسائی رہ نما رافائیل نے بھی اسرائیلی پاسپورٹ پرمقبوضہ بیت المقدس کا سفر کرنے کی ممانعت کی حمایت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بیت المقدس کے سفرکے امتناع کا فتویٰ صرف آنجہانی بابا شنودہ کی جانب ہی سے نہیں دیا گیا تھا بلکہ یہ بابا کیرلیس نے کئی سال پہلے جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ جب تک اسرائیل کا القدس پرقبضہ برقرار ہے قبطی شہرمیں داخل نہیں ہو سکتے۔
خیال رہے کہ بیت المقدس کی موجودہ ھئیت اور اسرائیلی قبضے کی وجہ سے غیرملکی شہریوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کا اسرائیلی ویزے پرداخلہ ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ مسلمان علماء کی اکثریت بھی اسرائیلی قبضے کے خاتمے تک القدس میں داخلے کی مخالف ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

