اسرائیلی جیل انتظامیہ کے تربیت یافتہ غنڈوں نے اسرائیلی جیل میں قید 18 سالہ فلسطینی نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کے چہرے پر شدید زخم آگئے۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے [التضامن] نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی جیل مجیدو کے نحشون یونٹ کے سپاہیوں نے اسیر محمود نصار کو ان کی والدہ کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔
بیان میں بتایا گیا کہ دوجیوں نے نصار کی والدہ کو برا بھلا کہا جس کے نتیجے میں نصار نے غصہ میں آکر فوجیوں کو اسی طرح کا جواب دیا جس پر فوجیوں نے ان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد انہیں ایک کوٹھڑی میں پھینک دیا۔
تضامن فائونڈیشن کے مطابق فوجیوں نے اپنی کاروائی کے نشانات مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے اسیر کے پھٹے ہوئے کپڑے بدلا دئیے اور انہیں دھمکی دی کہ اگر انہوں نے عدالت میں جج کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا تو وہ ان پر ایک بار پھر تشدد کریں گے۔ اسیر نصار کو متعدد بیماریوں کا سامنا ہے خاص طور پر دل کی بیماریوں کا اور وہ جون سے جیل میں قید ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
