صہیونی فوجیوں کی جانب سے معصوم فلسطینی شہریوں کی گرفتاری تو روز کا معمول ہے مگر قابض فوج کے اس غیرانسانی سلوک میں بعض ایسی ناقابل یقین مثالیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں جس کی نظیر اور کہیں موجود نہیں۔
اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کی ہوس کا اندازہ ایک تازہ مثال سے لگایا جاسکتا ہے جس میں دشمن فوجی ایک دو سالہ فلسطینی بچے کو گرفتار کرنے کے لیے اس کے گھر پہنچ گئے۔
یہ واقعہ بیت المقدس میں گذشتہ روز پیش آیا۔ ایک فلسطینی شہری نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور کہا کہ وہ حمزہ دیدارنی کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے زیدانی کے وارنٹ گرفتاری بھی دکھائے۔ اس موقع پر صہیونی فوجیوں کو بتایا گیا کہ حمزہ زیدانی کی عمر تو فقط دو سال ہے۔ جب صہیونی فوجیوں کو پتا چلا کہ ان کا مطلوبہ ملزم ابھی شیر خوار ہے تو اس کے چچا محمد زیدانی کو اٹھا کر لے گئے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کلب برائے اسیران کے چیئرمین قدورہ فارس نے صہیونی فوج کے اس رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو گرفتار کرنے کے واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں میں فلسطینیوں کے خلاف بے انتہا نفرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شیر خوار بچوں کو بھی ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے کر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سالہ بچے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا نہایت شرمناک بات ہے جس نے کم سے کم صہیونی فوج کی فلسطینیوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کی ہوسناکی کا پردہ چاک کردیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
