• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی فوجی کے قتل میں ملوث فلسطینی کا گھر دھماکے سے تباہ

بدھ 02-07-2014
in فلسطین
0
plf destroyed
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی فوج نے اسرائیلی پولیس افسر کے قتل میں ملوث فلسطینی اسیر زیاد عواد کا مکان دھماکے سے تباہ کر دیا

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی فوج نے بدھ کو علی الصباح مغربی کنارے کےالخلیل شہر میں اذنا کے مقام پر زیاد عواد کو کے مکان کو دھماکے سے اڑا دیا۔

مقامی شہریوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے صبح ہی سے اذنا میں اسیر زیاد کے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں مکان کے اندر دھماکہ خیز مواد رکھا گیا جو کچھ ہی دیر بعد دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں فلسطینی شہری کا مکان ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے دھواں اور گرد و غبار اتنا زیادہ تھا جو کئی کلو میٹر دور سے دیکھا جا سکتا تھا۔

پی آئی سی کے نامہ نگار کے مطابق زیاد عواد کے مکان کی مسماری سے قبل فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ قابض فوج نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم چار فلسطینی زخمی ہو گئے۔ یہ مظاہرہ اسیر زیاد عواد اور ان کے صاحبزادے عزالدین کے ساتھ یکجہتی کے لیے کیا گیا۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیاہے کہ تین ماہ پیشتر قومیا گذرگاہ کے قریب فلسطینی شہری زیاد عواد اور اس کے صاحبزادے عزالدین نے مل کر ملٹری پولیس افسر "مزراحی” کو قتل کردیا تھا۔ پولیس نے چھاپے کےدوران دونوں باپ بیٹے کو گرفتار کر لیا ہے اور دونوں پر فوجی افسر کے قتل کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی سپریم کورٹ نے فوج کو یہودی فوجی افسر کے قتل میں ملوث فلسطینی کا گھر مسمار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

مکان کی مسماری سے قبل اذنا کے مقامی شہریوں نے مکان بچانے کے لیے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا تھا۔ اذنا کی مساجد سے شہریوں سے مظاہرے میں شرکت کی اپیل کی گئی تھی، جس کے بعد سیکڑوں شہریوں نے زیاد عواد کے مکان کے گرد جمع ہو کر مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب تین یہودی لڑکوں کے مبینہ اغواء کے بعد قتل پر فلسطینیوں کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے اسرائیل کابینہ کا طویل اجلاس ہوا تاہم حکومت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق اس خبر کی تیاری تک صہیونی سیکیورٹی کمیٹی اور کابینہ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا۔ اجلاس پچھلے بارہ گھنٹے سے مسلسل جاری رہا لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اجلاس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلی تنصیبات پر ہونے والے راکٹ حملوں اور ان کا جواب دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسند وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے الزام عائد کیا تھا کہ الخلیل سے تیرہ جون کو غائب ہونے والے تینوں لڑکوں کو اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے یرغمال بنایا تھا۔ انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے میں حماس کے ٹھکانوں پر حملوں کی بھی تجویز دی اور کہا کہ وہ غزہ کی پٹی سے راکٹ حملوں کو طاقت کے ذریعے روکیں گے۔

پارلیمنٹ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے تین یہودی آباد کاروں کو اغواء کر کے انہیں قتل کرنے والوں اور اس میں معاونت کرنے والوں کے تعاقب میں ہیں۔ جلد ہی قاتلوں کو تلاش کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تین یہودی آباد کاروں کے بہیمانہ قتل میں جو بھی ملوث ہوا اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور یہودیوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

نیتن یاھو نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں اپنا مضبوط نیٹ ورک رکھنے والی جماعت "حماس” یہودیوں کے اغواء اور ان کے قتل پر اکساتی رہی ہے۔ یہی تنظیم حالیہ دنوں کے دوران یہودی کالونیوں پر راکٹ حملوں میں بھی ملوث ہے۔ ہماری مسلح افواج جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سخت جواب دیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں نیتن یاھو نے کہا کہ ضرورت پڑی تو سیکیورٹی اداروں کو غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی کی اجازت دی جائے گی۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے یعلون نے تین یہودی آباد کاروں کو مردہ حالت میں تلاش کرنے پر کامیابی پر فوج کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے دن رات ایک کر کے تین یہودی لڑکوں کی میتیں حاصل کر لیں۔ یہ ان کی بڑی کامیابی ہے۔ مسٹر یعلون کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں موجود حماس اسرائیل کے لیے خطرہ ہے اور یہودی کالونیوں پر غزہ سے ہونے والے راکٹ حملوں کا سخت جواب دیا جائے گا

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.