اسرائیلی فوج نے عسکری ٹاور کے قریب سے گزرنے والے ایک فلسطینی نوجوان کو روک کراس سے تفتیش کی اور تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ایک صہیونی اہلکار نے اس کے سر پر بندوق رکھ کر اسے زبردست شراب پینے پر مجبور کردیا۔ یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم ایک فلسطینی کارکن محمد عوض نے بتایا کہ یہ اندوہناک واقعہ الخلیل کے بیت امر ٹاؤن میں پیش آیا ہے۔
یہودی آباد کاری مخالف تنظیم ’’قومی کمیٹی‘‘ کے ترجمان محمد عوض کا کہنا ہے کہ گزشتہ شام سوا سات بجے 24 سالہ نوجوان محمد خلیل محمود ابو دیہ جو بیت امر کے علاقے صافا کا رہائشی ہے اپنے گھر واپس جا رہا تھا کہ ایک فوجی ٹاور قریب سے گزر رہا تھا کہ اسے اسرائیل فوج کی ایک موبائل ٹیم نے روک اور ٹاور کےاندر لے گئے۔ وہاں پر صہیونی اہلکاروں نے اس سے تفتیش شروع کردی اور اس سے گزشتہ دنوں بیت امر میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے والے فلسطینیوں کے نام پوچھنا شروع کردیے۔ اس دوران اسرائیلی انٹیلی جنس کے علاقے میں معروف عہدیدار کیپٹن صدقی کو بھی بلا لیا گیا۔ کیپٹن صدقی نے بھی نوجوان پر سوالوں کی بوچھاڑ کردی اور اس سے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی شناخت کروانے کا کہتا رہا۔
ابو دیہ نے جب کسی بھی طرح کی معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا تو کیپٹن صدقی نے اس پر پستول تان لی اور اس کے سر پر پستول رکھا کر اسے شراب کی مکمل بوتل پینے پرمجبور کردیا۔ جس کے بعد نوجوان کے ہوش و حواس گم ہوگئے اور وہ ٹاور کے اندر ہی زمین پر گر گیا۔ جس کے بعد صہیونی اہلکاروں نے اسے اٹھا کر ٹاور کے باہر پھینک دیا جسے بعد ازاں مقامی فلسطینی اٹھا کر گھر چھوڑ آئے۔
ابو دیہ نے بتایا کہ اسرائیل فوج اس سے قبل بھی اسے متعدد بار گرفتار کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنا چکی ہے۔ سن 2009ء میں اسے گرفتار کرکے عسقلان جیل رکھا گیا تھا جہاں اسرائیلی اہلکاروں کے بہیمانہ تشدد سے وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
