فلسطین کےشہر مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ برس اکتوبر میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ایک چار سالہ بچی طویل موت وحیات کی کشمکش کے بعد کل منگل کو دم توڑ گئی۔
ننھی اسیل محمود موسیٰ العرارہ کو گذشتہ برس اکتوبر میں مقبوضہ بیت المقدس کےشمال میں اس وقت گولیاں لگی تھیں جب مقامی فلسطینی اپنے مکانات گرائے جانے کےخلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے۔عرارہ کی گردن اور پیٹ میں تین گولیاں پیوست ہو گئی تھیں، جس کے بعد اسے اسپتال میں انہتائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا، تاہم وہ چھ ماہ کے علاج کی مساعی کے باوجود جانبر نہ ہو سکی اور دم توڑ گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق زخمی ہونے کے بعد اسیل عرارہ کو مقبوضہ بیت المقدس کے المقاصد اسپتال میں رکھا گیا تھا تاہم چند ماہ بعد اسے رام اللہ کے ایک مرکزی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عرارہ کو گولی اس وقت لگی تھی جب وہ بیت المقدس کے جنوب میں عناتا کے مقام پر اپنے گھرکے قریب کھیل رہی تھی جبکہ کچھ ہی فاصلے پر فلسطینی اسرائیلی فوج کےخلاف احتجاج کر رہے تھے۔
واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے اسے نامعلوم حملہ آوروں کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس سنگین جرم میں ملوث فوجی اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیلی فوجیوں کا کہنا تھا کہ اسیل کو گولی نہیں لگی بلکہ کسی شخص نے تیز دھار آلے نے اس پرحملہ کیا ہے تاہم طبی تحقیقات کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ اسیل کی گردن اور پیٹ میں گولیاں لگی ہیں، جس کے باعث وہ نہایت تشویشناک حالت میں ہے۔ شہیدہ کے لواحقین نے بچی کے قاتل فوجیوں کے خلاف سخت کارروائی اور جرم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

