قابض اسرائیلی فوج نے شمالی مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے بیت حنینا میں فلسطینی بدووں کے گھروں کو یہ کہتے ہوئے بلڈوزروں سے مسمار کر دیا کہ یہ گھر بغیر اجازت نامے کے تعمیر کیے گئے ہیں۔ محمد کعابنہ نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے فوج اور بلڈوزروں کی مدد سے گزشتہ روز صبح چھے بجے ان کے گھروں کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے منہدم کرنا شروع کر دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گھروں کی انہدامی کارروائی سے متعدد بچوں سمیت 53 افراد گھر جیسی انمول نعمت سے محروم ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اسرائیلی فوج کے رہائشی علاقے پر چھاپے کی وجہ سے اہل علاقہ میں کافی خوف و ہراس پایا گیا تھا جس کی وجہ سے کافی لوگ جان بچانے کیلیے پہاڑوں کی طرف بھاگ گئے۔ واضح رہے کہ منہدم شدہ علاقے کے فلسطینی مالکان امریکی تارکین وطن ہیں جن کی اجازت سے الکعابنہ یہاں 1967ء سے قبل رہائش پذیر ہے۔
دوسری طرف قابض اسرائیلی انتظامیہ نے ناکام دفاع کرتےہوئے کہا کہ تین ماہ قبل گھروں کو منہدم کرنے کے حوالے سے حکم نامے جاری کیے جا چکے تھے کہ کسی بھی وقت انہدامی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج "متروکہ املاک قانون” کے تحت اس بات کی دعویدار ہے کہ یہ پہاڑی علاقہ فوج کی ملکیت ہے اور فوج نے اس علاقے پر ایک فوجی اڈے کے قیام کا بھی اعلان کیا تھا۔
اسرائیلی انہدامی کارروائیوں کے پیش نظر غزہ محاصرہ مخالف کمیٹی کے سربراہ جمال الخضری نے اس واقعے کی پرزور مذمت کی۔ جمال الخضری نے اسرائیلی جائیداد کے قانون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے یہودی آبادکاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو دربدر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی مذکورہ بالا قانون، نقب میں پراور منصوبہ جیسے اقدامات، وادی اردن اور مغربی کنارے میں انہدامی کارروائیاں فلسطین کو یہودیانے کی طرف اشارہ نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر فلسطینیوں کے مالکانہ حقوق ضبط کریں۔ جمال الخضری نے عالمی برادری سے فلسطینیوں کے ضبط شدہ حقوق واپس دلانے پر بھرپور حمایت کا مطالبہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
