اسیران مطالعاتی مرکز، فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کے جیلوں پر حملے کرنے والے خصوصی یونٹ نےنقب جیل میں فلسطینی بیرکوں میں گھس کر قیدیوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ بیرکوں کی تلاشی کی اس مہم کے دوران قیدیوں کی انتہائی ضروری استعمال کی اشیاء پر قبضہ کر لیا گیا۔
مرکز کے ڈائریکٹر اور تحقیق کار ریاض اشقر کے مطابق صہیونی فوج کے خصوصی یونٹ ’’کیٹر‘‘ کے اہلکاروں نے عرب قیدیوں کی بیرکوں پر حملہ کر کے تین اسیران کو قید تنہائی میں منتقل کر دیا۔ انہیں یہ سزا جیل کی حدود میں ایکسرسائز کرنے کی پاداش میں یہ سزا دی گئی۔ اسرائیلی فوج کے اس ظالمانہ اقدام کے خلاف اسیران نے احتجاج شروع کر دیا جس کے بعد جیل کے اندر کے حالات کشیدہ ہو گئے۔
ریاض اشقر نے بتایا کہ صہیونی فورسز کے خصوصی یونٹس کی جانب سے جیلوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیل ایک جانب ان قیدیوں کو اپنے اہل خانہ اور دیگر اقرباء سے ملنے کی اجازت نہیں دیتا تو دوسری جانب دوران حراست ان کو سخت حالات اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نقب جیل میں اسرائیلی فوج نے جیل کے یونٹ 6 کی بیرک نمبر 7 پر حملہ کیا اور سامی عسلیہ نامی قیدی پر تشدد شروع کر دیا، بہیمانہ انداز میں مارنے کے بعد انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا، ان کو عریاں کر کے تلاشی بھی لی گئی۔ بیرک میں بجلی سے چلنے والی تمام اشیاء قبضے میں لے لی گئیں اور اس بیرک کو بند کر دیا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
