اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز مختلف محاذوں پر بیک وقت لڑی جانے والی بھرپور جنگ کے لیے تربیتی مشقیں شروع کردی ہیں۔
ان جنگی مشقوں ”ہفتہ داخی محاذ، ایک سنجیدہ محاذ” کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ پانچ روزہ جنگی مشقیں جمعرات کے روز تک جارہی رہیں گی۔ تربیتی مشقوں کا ہدف مقامی اسرائیلی حکومت کی ایک بھرپور جنگ سے نمٹنے کی تیاری ہے۔ ان مشقوں میں مختلف جہات سے برسائے جانے والے راکٹوں کا مقابلہ کرنے کی تیاری کی جائے گی۔ مشقوں میں غیر روایتی ہتھیاروں سے لیس راکٹ برسائے جانے کی صورت حال سے نمٹنا بھی اہم ہوگا۔
یہ سالانہ مشقیں لگاتار سات سالوں سے جاری ہیں۔ سن 2006ء میں لبنان کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد 2007ء سے ان جنگی مشقوں کا آغاز کیا گیا تھا، اس سے قبل ان مشقوں کو ”ٹرننگ پوائنٹ” کا نام دیا جاتا رہا ہے۔
پیر کے روز ان مشقوں کے حوالے سے دو مرتبہ الارمنگ سائرن بجائے جائیں گے۔ صبح کے وقت ھنگامی سائرن بجانے کا مقصد سکولوں میں طلبہ کے تحفظ کے اقدامات کا جائزہ لینا ہوگا۔ شام کے وقت سائرن بجا کر گھروں میں ھنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو دیکھا جائے گا۔
اس مرتبہ ان مشقوں میں تل ابیب میں جنگی حالات سے نمٹنے کی خصوصی تیاریاں کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال نومبر میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران غزہ کی پٹی سے پہلی مرتبہ ایسے راکٹ برسائے گئے تھے جو تل ابیب تک پہنچ گئے تھے چنانچہ اس مرتبہ تل ابیب میں راکٹوں سے تحفظ کے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
ان تربیتی مشقوں کا پروگرام تین ہفتے قبل کا تھا تاہم اسرائیلی ائیر فورس کی جانب سے شامی دارالحکومت دمشق پر بمباری کے بعد ان مشقوں کو موخر کردیا گیا تھا۔ ان مشقوں سے قبل سے ہی اسرائیلی رہنماؤں کے تواتر سے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ اسرائیل ہر طرح کے ھنگامی اور جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے بھرپور تیار ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شام سے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کو اسلحہ کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔
نشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
