قابض اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں واقع ممبر پارلیمان حاتم قفیشہ کے گھر پر دھاوا بول دیا اور ان کے سب سے بڑے بیٹے انس کو حراست میں لے لیا۔
حاتم قفیشہ کی اہلیہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی علی الصباح ان کے گھر میں گھسے چلے آئے اور وحشیانہ انداز میں تلاشی لیتے ہوئے گھر میں توڑ پھوڑ شروع کردی۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے 19 سالہ بیٹے انس کو اغوا کیا اور نامعلوم جگہ پر منتقل کردیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ صیہونی فوجیوں نے ان کے گھر سے متعدد کمپیوٹر اور ایک موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ صیہونی فوجیوں نے حاتم کے بھائی کے گھر پر بھی دھاوا بولا اور وہاں سے بھی متعدد کمپیوٹر اٹھا کر ساتھ لے گئے۔
اسرائیلی فوجیوں نے حاتم قفیشہ کو ان کے اسی عرصہ انتخاب کے دوران چار مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا جن میں سب سے حالیہ واقعہ 4٫2٫2013 کو پیش آیا تھا جب انہیں بغیر کسی مقدمے یا الزام کے انتظامی حراست میں قید رکھا گیا تھا۔ حاتم قفیشہ نے مجموعی طور پر اسرائیلی جیلوں میں 14 سال کا عرصہ گزارا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
