قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر اور اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے بزرگ سیاست دان ڈاکٹرعزیز دویک کو گرفتارکر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
ان کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ جمعرات کی شام مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل سے رام اللہ میں اپنے گھر واپس آ رہے تھے۔ رام اللہ میں ایک فوجی چوکی کے پاس سے گذرتے ہوئے صہیونی فوج نے ان کی گاڑی کو روکا اور انہیں اتار کر اپنی فوجی گاڑی ڈالا اور نامعلوم مقام کی طرف لے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق قابض صہیونی فوج نے رام اللہ کے جنوب میں قائم کی گئی ایک چیک پوسٹ سے گذرتے ہوئے ڈاکٹر دویک اور ان کے ساتھیوں کی گاڑی کو روکا۔ انہیں گاڑی میں موجود تمام افراد کو ایک گھنٹے تک چیک پوسٹ پر روکے رکھا گیا۔ بعد ازاں ایک سیکیورٹی اہلکار نےان کے دیگر ساتھیوں سے کہا کہ ڈاکٹر دویک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی لوگوں کو گھروں کو جانے کی اجازت ہے۔
خیال رہے کہ ڈاکٹرعزیزدویک فلسطینی مجلس قانون ساز کے ایک علیل رکن حامد البیتاوی کی عیادت کے لیے نابلس گئے تھے جہاں سے واپسی پر وہ الخلیل کے مختصر دورے پر گئے۔
ڈاکٹر عزیزدویک کو ماضی میں کئی مرتبہ حراست میں لیا جاتا رہا ہے تاہم سنہ 2006ء میں بننے والی فلسطینی مجلس قانون ساز کے اسپیکر منتخب ہونے کے بعد ان کی یہ دوسری گرفتاری ہے۔ قبل ازیں وہ تین سال تک صہیونی جیلوں میں رہ کر گذشتہ برس رہا ہوئے تھے۔

