’’زعیم‘‘ بلدیہ کونسل کےچیئرمین نعیم صب لبن نے میڈیا کو بتایا کہ جمعرات کے روز انہیں صہیونی فوجیوں کی جانب سے اچانک اطلاع دی گئی کہ وہ قصبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر آہنی گیٹ نصب کرکے اس کی ناکہ بندی کررہے ہیں۔ صہیونی فوجیوں کی جانب سے بتایا گیا کہ وہ یہ اقدام امن وامان کے قیام کی خاطر کررہے ہیں لیکن امن وامان کی آڑ میں پورے قصبے کو کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ کسی شخص کو باہر سے اندرآنے اور کسی کو باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
نعیم لبن نے بتایا کہ قصبے کے مقامی باشندوں نے صہیونی فوجیوں کے اس ظالمانہ اقدان کے خلاف سخت احتجاج بھی کیا ہے مگر گائوں کی مسلسل ناکہ بندی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زعیم قصبے کو بیت المقدس سے الگ کرنے کی سازشیں پچھلے کئی ماہ سے جاری تھیں، کیونکہ اس قصبے کے فلسطینی مکینوں کو بیت المقدس کی طرف جانے کی اجازت نہیں تھی، جگہ جگہ کھڑی کی گئی رکاوٹوں کا مقصد فلسطینیوں کو بیت المقدس تک رسائی سے روکنا تھا۔
ایک سوال کے جواب نعیم صب لبن نے بتایا کہ ’’زعیم‘‘ قصبے کے 6500 فلسطینی باشندوں کے پاس ’’بلیوکارڈ‘‘ ہیں جن میں ان کی بیت المقدس کی شہریت تسلیم کی گئی ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل ایک سازش کے تحت ہزاروں فلسطینیوں کی بیت المقدس کی شناخت ختم کرنے کی سازش کررہا ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی توجہ قصبے کی ناکہ بندی کی جانب مبذول کراتے ہوئے ان سے مدد کی اپیل۔ صب لبن کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں کی جانب سے ان کی مدد نہ کی گئی تو زعیم قصبے کے ہزاروں مکینوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
