فلسطین میں تین یہودی آباد کاروں کے اغواء کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کے تمام شہر، دیہات اور پناہ گزین کیمپ صہیونی فوج گردی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ لاپتا یہودیوں کی تلاش کے لیے دن میں کئی کئی بار شہریوں کے گھروں پر چھاپے مار ان کی تلاشی کی جا رہی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے منگل کے روز مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے مشرق میں البلاطہ پناہ گزین کیمپ کے مکینوں کا نام میں دم کیے رکھا۔ عینی شاہدین کے مطابق قابض اسرائیلی فوجی بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ بلاطہ کیمپ کے داخلی راستے سے اندر داخل ہوئے اور کیمپ میں داخل ہوتے ہیں بھاری آواز پیدا کرنے والے بم دھماکے شروع کردیے، جس کے نتیجے میں شہری سخت خوف زدہ ہوگئے۔
ایک مقامی شہری نے بتایا کہ صہیونی فوج کی گشتی پارٹی بلاطہ کیمپ میں موجود دو مساجد میں گھس گئے۔ مساجد کی مکمل تلاشی لینے کے بعد انہوں نے گھروں کی تلاشی کا سلسلہ شروع کیا جو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق بلاطہ کیمپ میں صہیونی فوج کی دراندازی کے خلاف علاقہ مکینوں نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بھاری آواز پیدا کرنے والے بموں کے دھماکے کیے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کی شام سے تین یہودی لڑکوں کی پراسرار گم شدگی کے بعد مغربی کنارے میں چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے آپریشن کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
