رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق گروپ کے چیئرمین قدورہ فارس نے اردن کے دارالحکومت عمان میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ان کے پاس اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک اور اسیران کو قصدا موت کے گھاٹ اتارے جانے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جنہیں جلد منظرعام پرلایا جا رہا ہے۔
قدورہ فارس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں پابند سلاسل فلسطینیوں پر بد ترین تشدد کیا جاتا ہے۔ انہیں اعتراف جرم کرانے اوران سے من پسند اقبالی بیانات کے حصول کے لیے تشدد کے آخری درجے کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ تعذیب وتشدد کا سامنا کرنے والے تمام فلسطینی قیدی چاہے وہ بچے ہوں یا خواتین سب یکساں ہیں اور ہرایک کو انتہائی ہولناک اذیتیں دی جاتی ہیں۔
عمان میں عالمی فوج داری عدالت کے کے پراسیکیوٹر جنرل کی مقامی کمیٹی کے دفتر کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فلسطینی سماجی کارکن نے بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو دانستہ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت موت سے ہم کنار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیدیوں سے بدسلوکی میں اسرائیلی تفتیش کاروں، فوجیوں، جیلروں اور انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ اہلکاروں نے تمام حدیں پھلانگ دی ہیں۔ جہاں فلسطینی اسیران پرتشدد کے ہولناک طریقے استعمال کیے جاتے ہیں وہاں مریض اور زخمی فلسطینی قیدیوں کو بھی سسک سسک کر موت کے منہ جانے کے لیے ان کے حال پرچھوڑ دیا جاتا ہے اور ان کی تکالیف کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔
قدورہ فارس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی زندانوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر اسرائیل پر انسانی حقوق کےاداروں کی گرفت کا نہ ہونا ہے۔اسرائیل کے انتہا پسند تفتیش کاروں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ چاہے جیسا بھی ناروا سلوک کیوں نہ کریں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کی طرف مبذول کرائی اور کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں کی خبر گیری کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں دو ہزار کے لگ بھگ فلسطینی مختلف امراض کا شکار ہیں مگر وہ مریض قیدی بھی بغیر کسی علاج کی سہولت کے انتہائی تکلیف میں زندگی کے شب ورزو پورے کررہے ہیں۔
قدورہ فارس کا کہنا تھا کہ جیلروں کی فلسطینی مریض قیدیوں کے حوالے سے مجرمانہ غفلت بھی قیدیوں کو موت سے ہمکنار کرنے کا ایک انتہائی مجرمانہ اور وحشیانہ طرز عمل ہے۔ علاج کی سہولتیں اس لیے نہیں دی جاتیں تاکہ قیدیوں کو سسک سسک کر جان دینے پرمجبور کیا جاسکے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی جیلوں میں اس وقت 7000 سے زاید فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں ایک سو سے زائد خواتین اور پانچ سو کے لگ بھگ بچے شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق 2000 کے قریب فلسطینی قیدی مختلف نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
