مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اسرائیلی جیلوں میں قید کم عمربچوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرنے کے ساتھ عالمی برادری سے صہیونی ہتھکنڈوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی جیلوں میں قید 10 سے 15 سال کی عمرکے بچوں کے انٹرویو کیے۔ ان بچوں کو مارچ سے دسمبر 2014 ء کے دوران بیت المقدس اور غرب اردن سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان بچوں نے اپنے ساتھ برتے جانے والے سلوک کی قریبا مماثل داستانیں بیان کیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اذیتوں کے شکار بچوں کے جسم پر وحشیانہ تشدد کی واضح علامات موجود ہیں۔ بچوں کو اعتراف جرم کرانے کے لیے انہیں سگریٹ سلگا کرداغا جاتا، بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے، قینچیوں سے جسم کو کاٹا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں پر تشدد کے آخری درجے کے حربے استعمال کرکے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتیں ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ وشمالی افریقا "سارہ لیا ویٹسن” نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی زندانوں میں ڈالے گئے کم سن بچوں پر مظالم کی داستانیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جس قسم کی بدسلوکی اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی بچوں کے ساتھ کی جاتی ہے دنیا میں اس کی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ سنگ باری کے شبے میں حراست میں لیے گئے فلسطینی بچوں پرتشدد کے لیے کئی کئی فوجی مسلط کیے جاتے ہیں۔ تشدد کے نتیجے میں کئی بچے جسمانی اور ذہنی طورپر معذور ہوچکے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
