سوسائٹی برائے فلسطینی اسیران کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے 31 سالہ صحافی اسامہ حسین شاہین کی اپیل کو دوسری دفعہ بناء کوئی وجہ بتائے مسترد کردیا ہے۔
سنٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عدالت نے اسیر کی اپیل مسترد کردی ہے اور ان کی 6 ماہ کی انتظامی حراست میں توسیع کے اپنے پرانے احکامات کو دوبارہ جاری کردیا ہے۔
شاہین کو اکتوبر 2012ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 6 ماہ کی انتظامی حراست سنائی گئی تھی جو کہ بعد مزید چھ ماہ کے لئے بڑھا دی گئی تھی۔
شاہین اسیران کے حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکن تھے اور فلسطینی سنٹر برائے مطالعہ اسیران کے ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے 5 سال مختلف اسرائیلی جیلوں میں کاٹے ہیں۔ وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں سب سے خطرناک دمہ کا مرض ہے۔
سنٹر نے شاہین کی حراست کو انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے فلسطینی کارکنان جو کہ اسرائیلی جرائم کو دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں، کے خلاف منظم انتقامی کاروائی قرار دیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
