اسرائیلی عدالت نے فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن اور حماس کے معروف رہنما فتحی قرعاوی کی انتظامی حراست میں توسیع سے انکار کردیا اور طولکرم سے تعلق رکھنے والے القرعاوی کو پانچ دن رہا کرنے کا حکم سنا دیا۔
فتحی قرعاوی کے بیٹے حازم قرعاوی نے خبر رساں ایجنسی ”قدس پریس” کے نمائندے کو بتایا کہ نام نہاد اسرائیلی سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز سات ماہ سے زیر حراست ان کے والد کی انتظامی حراست مزید بڑھانے سے انکار کردیا، اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی شاباک کی جانب سے انہیں مزید گرفتار رکھنے کی درخواست کو رد کردیا۔
فتحی القرعاوی کے بیٹے نے بتایا کہ ان کے والد کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے اور اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے ان پر سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام سراسر غلط ہے۔ حازم القرعاوی نے بتایا کہ اس سے قبل بھی ان کے والد کو بلاوجہ دو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے اور وہ اب تک تین سال اسرائیلی عقوبت خانوں میں بغیر کسی فرد جرم کے گزار چکے ہیں۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ فلسطینی مجلس قانون ساز کے منتخب رکن ہیں۔
حازم القرعاوی نے بتایا کہ ان کے والد کو 23 مئی کو رہا کردیا جائے گا۔ یاد رے کہ اسرائیلی فورسز نے فتحی القرعاوی کو گزشتہ سال 23 نومبر کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں غزہ کی پٹی کے ساتھ اظہار یک جہتی میں نکالے جانے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی بنا پر حراست میں لیا گیا۔ اس وقت سے وہ انتظامی حراست میں ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
