اسرائیلی استغاثہ نے بیت المقدس کی مجسٹریٹ عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ رائد صلاح کو اضافی سزا اور جرمانے کے ساتھ ساتھ آٹھ ماہ قید کی سزا سنا دے۔
اسرائیلی مجسٹریٹ عدالت نے پیر کی صبح شیخ صلاح پر لگائے جانے والے مخلتف الزامات کی سماعت کی جنہیں کرامہ فائل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسرائیلی جج ایہود گورڈن نے 10 اپریل کو ہونے والی سماعت میں شیخ صلاح کو اسرائیلی پولیس کو ان کے مشن مکمل کرنے سے روکنے پر مجرم قرار دے دیا گیا تھا۔شیخ صلاح کے وکلاء میں سے ایک وکیل افیغدور فیلڈمان نے کہا ہے کہ ایسے الزامات پر بہت کم کیسز یا عدالتی کارروائیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ ان نئے کیسز کی سماعت کے لئے جج نے اگلے پیر کو سماعت کا وقت دے دیا ہے۔
کرامہ فائل کی تاریخ اپریل 2011 سے ملتی ہے کہ جب شیخ صلاح سعودی عرب سے عمرہ کی ادائیگی کے بعد اردن کے راستے سے مقبوضہ فلسطین واپس آرہے تھے۔ اسرائیلی پولیس نے انہیں حراست میں لینے بعد دونوں میاں بیوی سے اشتعال انگیز رویہ رکھا جس کے نتیجے میں دونوں میاں بیوی نے احتجاج کیا۔
