یاد رہے کہ ابو خضیر کو جولائی میں بیت المقدس سے انتہا پسند یہودی اغواء کرکے لے گئے تھے جس کے بعد اسے نہایت بہیمانہ تشدد کرکے شہید کردیا گیا تھا۔ اغواء کے ایک گھنٹے بعد اس کی جھلسی ہوئی لاش ایک ویران علاقے سے ملی تھی۔ پولیس نے ملزمان کی شناخت کے بعد دو افراد کو حراست میں لے ان سے تفتیش شروع کی تھی۔ دونوں پر ابو خضیر کے اغواء اور قتل کے الزام کے تحت مقدمہ چل رہا تھا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مہند جبارہ خاندان کے وکیل نے بتایا کہ عدالت دانستہ طور پر ابو خضیر کے قاتلوں کے مقدمہ کو التواء کا شکار کررہی ہے۔ دونوں ملزمان کے سابقہ وکلاء کے چھوڑ جانے کے بہانے عدالت نے مقدمہ کی کارروائی ایک ماہ بائیس دن کے لیے ملتوی کردی۔
وکیل نے بتایا کہ عدالتی کارروائی کے دوران اسرائیل پراسیکیوٹر جنرل نے تجویز دی ہے کہ ملزمان کا ٹرائل کھلے عام ہونا چاہیے جس میں میڈیا کو بھی کوریج کی اجازت دی جایے۔ اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے پہلی مرتبہ کھل کر اس واقعے کو صہیونی سماج کو بدنام کرنے کا گھناونا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی کھلے عام تحقیقات کی جانی چاہئیں۔
دوسری جانب شہید کے والد حسین ابو خضیر نے بتایا کہ اسرائیلی عدالت کی جانب سے مقدمہ کی کارروائی میں تاخیر دراصل یہودی انتہا پسندوں کو ریلیف فراہم کرنا اور عدالتی معاملے میں ٹال مٹول سے کام لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو خضیر کے قاتل واضح ہیں جنہیں سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ والد کا کہنا تھا کہ ملزمان کی اصل تعداد چار ہے۔ ان میں تین کم عمر اور ایک بالغ لڑکا شخص شامل ہے۔
