رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم کلب برائے اسیران فلسطین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے کل منگل کے روز اپنی خصوصی سماعت میں محمد القیق کےوکلاء کی جانب سے بھوک ہڑتالی صحافی کو فلسطین کے مغربی کنارے کے وسطی شہررام اللہ منتقل کیے جانے کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے حکم دیا کہ القیق کا العفولہ اسپتال ہی میں علاج جاری رکھا جائے۔
اسرائیلی عدالت نے فیصلے کے حق میں انوکھی منطق بیان کی اور کہا کہ اگر القیق کو رام اللہ کے اسپتال منتقل کی جاتا ہے تو یہ اس کی انتظامی حراست کی تجدید ہوگی اور مغربی کنارے کے اسرائیلی فوجی اسے دوبارہ حراست میں لے لیں گے۔
عدالت نے اسپتال انتظامیہ کو بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کو معائنے اور اس کے علاج کے لیے زیادہ اختیارات دیتے ہوئے کہا کہ چاہےالقیق مانے یا نہ مانیں وہ علاج معالجے کا سلسلہ جاری رکھیں، تاہم عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ القیق کو اسرائیل کے اندر بیت المقدس کے المقاصد یا کسی بھی دوسرے اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔
ادھر اسیر کے اہل خانہ کا کہنا ہےکہ محمد القیق کی اسپتال میں حالت مزید تشویشناک ہے۔ اس نے صہیونی انٹیلی جنس اداروں کی ہٹ دھرمی کا پوری قوت اور عزم کے ساتھ مقابلہ جاری رکھا ہوا ہے اور تمام ترتکالیف اور ذہنی اور جسمانی دباؤ کے بھوک ہڑتال جاری ہے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کی مندوبہ حنان الخطیب کا کہنا ہے کہ القیق کی جسمانی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ ان کے دل میں اٹھنے والی دردکی ٹیسیں مزید شدت اختیار کرگئی ہیں۔ بخار کی شدت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے اور جسم کے دیگر حصوں میں بھی شدید تکلیف ہے۔
الشیخ راید صلاح کی ہڑتال
اسرائیلی عدالت کی جانب سے بھوک ہڑتالی فلسطینی صحافی محمد القیق کو فلسطینی اسپتال منتقل نہ کیے جانے کے خلاف مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں سرگرم اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ راید صلاح نے بھی القیق کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پربھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹُ’’فیس بک‘‘پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں الشیخ رائد صلاح نے لکھا کہ القیق کی رہائی اور اس کی فلسطینی اسپتال منتقلی کے خلاف انہوں نے فریڈم کمیٹی کے ارکان سمیت بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔ ہماری بھوک ہڑتال محمد القیق کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہے جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک القیق کو فلسطینی اسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ہے۔
غزہ مں فلسطینی حکومت کے محکمہ اطلاعات ونشریات کی جانب سے بھی اسرائیلی عدالت کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔اسرائیلی عدالت کے فیصلے کو صہیونی مظالم کا عکاس قرار دیتے ہوئے اسے فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی ہٹ دھرمی کی حمایت قرار دیا ہے۔
محمد القیق کوفلسطینی اسپتال منتقل نہ کیے جانے کے اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف فلسطین کے شہروں الخلیل، رام اللہ نابلس اور غزہ کی پٹی سمیت کئی دوسرے مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔
