اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے زیرحراست فلسطینی رُکن اسمبلی محمد طوطح اور سابق وزیر خالد ابو عرفہ کو تیس تیس ماہ قید اور مقبوضہ بیت المقدس سے بے دخلی کی سزا سنائی ہے۔ دونوں فلسطینی شخصیات کو ڈیڑھ برس قبل مقبوضہ بیت المقدس میں ریڈ کراس کےدفتر کے باہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق خالد ابو عرفہ اورمحمد طوطح کے مقدمہ کی سماعت جمعرات کو مقبوضہ بیت المقدس کی ایک فوجی عدالت میں ہوئی۔ اس موقع پرعدالت نے صرف فوجی پراسیکیوٹر کو وہاں پربات کرنے کی اجازت دی جبکہ محروس فلسطینی رہ نماؤں کو اپنا موقف بیان نہیں کرنے دیا گیا۔
کیس کی سماعت کے بعد صہیونی عدالت نے خالد ابو عرفہ اور محمد طوطح کی بیت المقدس سے بے دخلی اور اُنہیں اڑھائی برس تک حراست میں رکھنے اور رہائی کے فوری بعد انہیں بیت المقدس سے بے دخل کرنے کی سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ رہائی کے بعد اگر ملزمان بیت المقدس بدری کا فیصلہ قبول نہیں کرتے ہیں تو انہیں مزید چھ ماہ تک حراست میں رہنا پڑے گا۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج نے بیت المقدس سے تعلق رکھنےوالے فلسطینی اراکین قانون ساز کونسل خالد ابو عرفہ، محمد طوطح، احمد عطون اور محمد ابو طیرکو شہربدر کرکے مغربی کنارے منتقل کردیا تھا، لیکن ان چاروں فلسطینی شخصیات نے شہربدری کا صہیونی فیصلہ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے القدس میںریڈ کراس کے دفتر کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔ صہیونی فوج نے ڈیڑھ سال قبل احتجاجی کیمپ اکھاڑتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔
دوسری جانب فلسطین کی سیاسی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے صہیونی فوجی عدالت کے فیصلے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم "مرکز برائے احرار” نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو ظالمانہ قرار دیتےہوئے مسترد کر دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
