مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ سے تعلق رکھنے والے دو اسیران 40 سالہ ھارون ادریس اور 35 سالہ بلال سالم عجارمہ کو سنائی گئی سزا میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں مزید سخت ترین سزا دینے کی اپیل منظور کی ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صہیونی عدالت کی جانب سے پہلے جاری کردہ فیصلے میں ھارون ادریس حامد کو 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جب کہ بلال عجارمہ کو 20 ایک بار عمر قید اور بیس سال اضافی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اسرائیل کے فوجی پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دونوں فلسطینی اسیران کو ان کے جرائم سے کم کی سزا دی گئی ہے لہٰذا عدالت ھارون ادریس حامد کو ایک بار عمر قید اور 20 سال اضافی جبکہ بلال کو دو بار عمر قید اور 20 اضافی سال قید کی سزا سنائے۔
فلسطینی اسیران کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت کا ایک سال قبل دونوں اسیران کی سزا میں اضافے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت کی جانب سے اس کی سماعت مسلسل ملتوی ہوتی رہی ہے۔ کل تین فروری کو اسرائیلی عدالت نے خلاف توقع درخواست کی سماعت شروع کردی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
