مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی قومی حکومت کے سربراہ کے اسرائیلی سیکیورٹی میں قبلہ اول میں آمد پر فلسطینی سیاسی اور عوامی حلقوں میں سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بیت المقدس میں بالعموم اور مسجد اقصیٰ میں بالخصوص اسرائیل کی سیکیورٹی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
بیت المقدس کے مذہبی اور سیاسی امور کے تجزیہ نگار جمال عمرنے کہا کہ اسرائیلی میئر نیر برکات ایک ایسے وقت میں قبلہ اول میں داخل ہوئے جب اس سے دو روز قبل فلسطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ نے بھی مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا تھا۔ نیر برکات نے صرف ایک مقابلے کی کیفیت میں آ کر مسجد اقصیٰ کا دورہ کیا ہے تاکہ زمانی اور مکانی اعتبار سے اس مقدس مقام کی تقسیم کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ اسے سیاسی طور پر بھی تقسیم کیا جاسکے۔
جمال عمرو کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تقسیم یہودی تحریک اورصہیونیوں کی مشترکہ سازش ہے اور وہ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ یہودی تحریک، لبرل اور انتہا پسند یہودیوں کا قبلہ اول کے بارے میں ایک ہی موقف ہے اور وہ سب مل کر مسجد اقصیٰ کو فلسطینیوں اور یہودیوں میں زمانی، مکانی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا مکروہ خوب دیکھ رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
