ایام تشریق کے شروع ہوتے ہی پوری مسلم دنیا میں فرض نمازوں کے بعد با آواز بلند تکبیر واجب سمجھی جاتی ہے اور اسرائیلی جیلوں میں بھی ان تین دنوں میں” اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الی اللہ واللہ اکبر و للہ الحمد” کی تکبیر جیلوں کی چٹانی دیواروں کو چیرتی ہوئی باہر تک سنائی دیتی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے ایک نامہ نگار نے عید کے موقع پر اسرائیل کی مختلف جیلوں میں قیدیوں سے ملاقات کی۔ اسیران نے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عید کے آتے ہی تمام قیدی بھی اپنے اپنے طور پر عید کی تیاریوں میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ان کی تیاریاں دنیا اعتبار سے نہیں بلکہ عبادت کے حوالے سے ہوتی ہیں۔ نوافل اور تلاوت کلام پاک کا زیاہ سے زیادہ اہتمام ہونے لگتا ہے۔ اسرائیلی جیلروں کی جانب سے سخت پابندیاں بھی عاید کی جاتی ہیں۔ قیدیوں کو ان کے ساتھیوں سے الگ کر کے قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اپنا مخصوص ظالمانہ ایجنڈا مسلط کرنے کے لیے نت نئے نئے احکامات نافذ کیے جاتے ہیں۔
اسیران نے بتایا کہ تمام تر تکالیف اور آلام کے کہیں کہیں اسیران نماز عید، اجتماعی کھانے، ایک دوسرے سے ملاقات اور تکبیرات کے اہتمام کی پوری کوشش کرتے ہیں۔
اسیر محمد صوافطہ نے بتایا کہ جیلوں میں نماز عید کا اہتمام ایک بالکل منفرد تجربہ ہوتا ہے اور تمام جیلوں میں قید فلسطینی نماز عید کے اہتمام کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام اسیران ایک دوسرے کی کوٹھڑیوں میں جا کر ان سے ملنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ یہ میل ملاقات کوئی ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا کیونکہ صہیونی جیلروں کی جانب سے اسیران کو ایک دوسرے کے ساتھ اکھٹے زیادہ دیر تک نہیں رہنے دیا جاتا۔
اسیران کی جانب سے قوم کو عید کی مبارک باد
مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے دورے کے دوران اسیران سے ملاقات ایک دلچسپ تجربہ رہا اور ایسے لگا جیسے اسیران کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں بلکہ وہ خوش باش ہیں۔ اسرائیل جیل میں قید حماس رہنما اور سابق وزیر وصفی قبہا نے کہا کہ تمام فلسطینی قیدی اپنی پوری قوم کو عیدالاضحیٰ کے بابرکت موقع پرعید کی ڈھیروں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیل انتظامیہ قیدیوں کو عید کے ایام میں زیادہ سے زیادہ تنگ کرنے اور انہیں عید کے معمولات سے محروم کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے لیکن اس کے باوجود اسیران اس روح پرور موقع پر اپنی مصروفیات بنا لیتے ہیں۔
عید کے موقع پر وہ شیرینی خود تیار کرتے ہیں اور پھر اپنے دوسرے ساتھیوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ قیدی اپنی کوٹھڑی سے نکل کر دوسروں کے کمروں میں جاتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مجھے اسرائیل کی جیلوں میں کئی عیدیں گذارنے کا اتفاق ہوا اور میں نے دیکھا کہ اسیران عید کے دنوں کے لیے بھرپور تیار کرتے ہیں، بعض اوقات جیلوں میں ہونے والی عید کی تیاریوں سے یہ گماں گذرتا ہے کہ ہم جیلوں سے باہر ہیں۔ لیکن اچانک ہماری تیاریوں پر اس وقت پانی پھیر دیا جاتا ہے جب اچانک اسرائیلی جیلر، فوج یا تفتیشی اہلکار قیدیوں کی قیام گاہوں پر دھاوا بول دیتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
