مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اس شادی کا اہتمام انسانی حقوق کی تنظیموں کی مسلسل محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے۔ حال ہی میں 30 سالہ فراس زیاد دبور نامی ایک فلسطینی قیدی اور 19 سالہ ناسقہ محمد عبداللہ حماد کے درمیان ایجاب وقبول ہوا۔ دونوں کا تعلق مغربی کنارے کے طولکرم شہر میں واقع نور شمس پناہ گزین کیمپ سے ہے۔
مرکز اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ رشتہ ازدوج میں منسلک ہونے والے نو بیاہتا جوڑے نے اپنے متولیوں کے ذریعے ایجاب وقبول کیا ہے۔ اسیر دبور اس وقت جزیرہ نما النقب کی جیل میں پندرہ سال قید کاٹ رہے ہیں۔ وہ سنہ 2003 ء سے پابند سلاسل ہیں۔ گرفتاری کے وقت اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے ان کے سرمیں گہرا زخم بھی آیا تھا۔ انہیں جیل ہی میں پیغام پہنچایا گیا کہ وہ ناسقہ کے ساتھ عقد شرعی کو قبول کریں۔ یہ پیغام انسانی حقوق کی تنظیم ریڈ کراس کے ذریعے پہنچایا گیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی شادی کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی کچھ ایسے واقعات دیکھنے کو ملتےرہے ہیں جن میں طویل عمر کے سزا یافتہ فلسطینی اسیران رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کریہ ثابت کرتے رہے کہ صہیونی عقوبت خانے بھی ان کی ازدواج زندگی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
