انسانی حقوق کی ایک عالمی تنظیم نے بیت المقدس میں یہودی آباد کاری اور شہرکو یہودیانے کی صہیونی سازشوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی سے فائدہ اٹھا کر اسرائیل نے بیت المقدس کے تاریخی اور دینی تشخص کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2000ء کے بعد کا بارہ سالہ دور بیت المقدس میں جوہری تبدیلیوں کا زمانہ ہے۔ اس دوران اسرائیل نے نہ صرف شہر کے جغرافیائی نقشے کو بدلنے کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے بلکہ شہر کا سماجی، ثقافتی اور تہذیبی تشخص بھی تباہ کردیا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کو یہودیانے سے متعلق یہ حالیہ رپورٹ امریکا میں قائم تنظیم ”انٹرنیشنل کرائسز گروپ” کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے جتنی تبدیلیاں پچھلے بارہ سال میں کی گئی ہیں اتنی پچھلے چالیس سال میں نہیں کی گئیں۔ اسرائیل نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس اور غرب اردن کے درمیان یہودی کالونیاں تعمیر کرکے دونوں فلسطینی شہروں کو ایک دوسرے سے علاحدہ کردیا۔ نیزمقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے درمیان’’معالیہ ادومیم‘‘ یہودی کالونی کی تعمیرات شروع کی گئیں۔ غرب اردن کے مغرب میں سیکٹر’’ای ون‘‘ میں’’جفعات ھمٹوس‘‘ کالونی تعمیر کرکے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کو الگ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے کے جنوب میں بھی کئی مقامات پر یہودی کالونیاں بنائی گئیں تاکہ بیت المقدس اور غرب اردن کے درمیان رابطے کم سے کم کیے جا سکیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین