رپورٹ میں مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کرنے والی تنظیم "بتسيلم” اور مرکز برائے دفاع فرد "ہموكيڈ” کی جانب سے 116 قیدیوں کے شہادتی بیانات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ان فلسطینی قیدیوں سے اگست 2013 سے مارچ 2014 کے درمیان اسرائیل میں واقع شیکما جیل میں باز پرس کی گئی تھی۔
70 صفحات پر مشتمل ہے اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ جیل میں لاگو تحقیقات کے طریقے اسرائیل کی دیگر جیلوں میں تحقیقات کے طریقوں سے بڑی حد تک ملتے جلتے ہیں۔ یہ رپورٹ فلسطینیوں کو درپیش باز پرس کے سیشنوں کے حوالے سے تجزیاتی سسلسلے کی تیسری کارگزاری ہے۔
رپورٹ میں جس کا عنوان ہے "حکومت کی جانب سے حمایت یافتہ”… اس میں بتایا گیا ہے کہ "تازہ گواہیاں اس سے پہلے دیگر مراکز میں زیر حراست فلسطینیوں کی گواہیوں سے حیرت انگیز حد تک ملتی جلتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ رویہ درحقیقت پوچھ گچھ کی سرکاری پالیسی کی شکل اختیار کر گیا ہے”۔
دوسری جانب داخلہ سیکورٹی کے اسرائیلی ادارے شین بیت نے رپورٹ کے مندرجات کو "گمراہ کن اور مسخ شدہ” قرار دیا ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی جانب سے تمام پوچھ گچھ "قانون کے مطابق ہوتی ہے جس کا مقصد ریاست کے امن کو سبوتاژ کرنے والی سرگرمیوں کو روکنا ہوتا ہے”۔
رپورٹ کے مطابق استعمال کیے جانے والے طریقوں میں زیرحراست افراد کو طویل وقت تک سونے سے محروم رکھنا، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر کئی گھنٹوں تک کرسی سے باندھ کر رکھنا … اور اس کے علاوہ شدید سردی اور شدید گرمی کا سامنا کرانا شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ "قیدیوں کو کئی دنوں یہاں تک کہ ہفتوں تک نہانے اور کپڑے تبدیل کرنے سے روکنا، ان کو انتہائی تنگ قیدخانوں میں حراست میں رکھنا اور پرتعفن جگہ پر کئی روز تک مکمل طور پر تنہائی میں رکھ چھوڑنا … یہ سب عام روٹین ہیں”۔
1999ء میں اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحقیق کاروں کی جانب سے تشدد پر پابندی عائد کردی گئی تھی… اور صرف "جلد پھٹ جانے والے بم ” کی موجودگی کی صورت میں استثناء دیا گیا تھا۔
