رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہری کو جمعرات کے روز الخلیل شہر میں گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ قابض فوج نے الزام عائد کیا تھا کہ فلسطینی شہری نے شہادت سے قبل اسرائیلی فوجیوں پر کلہاڑے سے حملہ کیا تھا تاہم قابض فوج کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔
شہادت کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے ابراہیم برادعیہ کا جسد خاکی بھی پوسٹ مارٹم کی آڑ میں قبضے میں لے لیا تھا جسے کل جمعہ کی شام ایک مقامی فلسطینی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد جسد خاکی آج ہفتے کو ورثاء کے حوالے کیا گیا تھا۔
شہید کی نماز جنازہ العروب کیمپ کی جامع مسجد عمر بن خطاب کے صحن میں ادا کی گئی جہاں فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
قبل ازیں ہفتے کو علی الصباح ایک مقامی اسپتال سے جب شہید کا جسد خاکی گھر لایا گیا تو اس وقت بھی عوام کی بڑی تعداد شہید کے دیدار کے لیے پرموجود تھی۔ چون سالہ فلسطینی شہری کے دو بچے ہیں۔
خیال رہے کہ ابراہیم برادعیہ کو اسرائیلی فوج کی جیلوں میں قید کاٹنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے۔ انہیں اسرائیلی فوج نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ سے تعلق کی پاداش میں کئی سال تک پابند سلاسل رکھا تھا۔
