اسرائیلی حکام نے بدھ کےروز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں مقامی شہریوں اور ناروے کی ایک تنظیم کے تعاون سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے پرکام بند کرا دیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں نے صہیونی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس علاقے میں یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ قابض حکومت نے ناروے کے تعاون سے زیرتکمیل فراہمی آب کے منصوبے پر کام بند کرادیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے جنوب میں الظاھریہ کے مقام پر پانی کے کنوئیں کی کھدائی اور کھیتوں کے اور گھروں تک پائپ لائنوں کی تنصیب کا کام جاری تھا۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے پہلے بھی کئی مرتبہ فلسطینیوں کو اس منصوبے پر کام جاری رکھنے سے منع کیا تھا تاہم ناروے کی ٹیم نے کام بدستور جاری رکھا ہوا تھا۔ بدھ کے روزصہیونی فوج اورحکومتی عہدیداروں نے کام کے دوران ناروے کی ٹیم کو ایک اعلیٰ سطحی حکم نامہ دکھایا جس میں فراہمی آب کے منصوبے پرکام روکنے کا کہا گیا تھا۔ اس کے بعد ناروے کی ٹیم نے بھی کام روک دیا ہے۔
الخلیل میں پانی کی فراہمی کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی جانب سے صہیونی حکومت کی اس بے جا مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی فوجیوں نے ناروے کی ٹیم کو اس لیے منع کیا ہے کیونکہ وہ یہاں پر یہودیوں کے لیے قائم کردہ کالونی میں توسیع کرنا چاہتے ہیں۔
خیال رہےکہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان طے پائےاوسلو امن معاہدے کے تحت یہ الخلیل کا یہ علاقہ اسرائیل کے کنٹرول میں دیا گیا ہے۔ جسے مغربی کنارے کا زون ‘‘سی ’’ قراردیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
