مقبوضہ فلسطین کے علاقے سالم کی اسرائیلی فوجی عدالت نے خاتون اسیرہ 47 سالہ میسر عطیانی کو تین ماہ کی قید سنا دی اور انہیں 2000 شیکل کا جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسیرہ کے خاندان نے احرار سنٹر برائے اسیران کو بتایا ہے کہ میسر کو گرین لائین کے اندر مقبوضہ فلسطینی علاقے طیرہ میں بغیر اجازت نامے داخلے پر گرفتار کیا گیا تھا۔
احرار سنٹر کے ڈائریکٹر فواد خفش کا کہنا ہے کہ اسیران کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سرگرم کارکن اور نابلس میں فلسطینی خواتین کی یونین کی رکن میسر عطیانی کو اگست 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں براہ راست ہی ہشارون جیل میں منتقل کردیا گیا تھا۔
عطیانی کو اس سے پہلے چار سال قبل گرفتار کیا گیا تھا جب انہیں ایک اسرائیلی تفتیشی مرکز میں مسلسل 13 روز کے لئے حراست میں رکھا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
