قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ یروشلم میں ایک فلسطینی شہری کو بغیر پرمٹ گھر کی تعمیر کرنے پر اپنا گھر گرانے پر مجبور کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کے زیر اثر یروشلم بلدیہ نے 57 سالہ شہری منذر حجازی کو مجبور کیا کہ کہ وہ یروشلم کے سعدیہ علاقے میں موجود اپنے گھر کو گرا دیں۔ اس گھر میں نو افراد رہائش پذیر تھے۔
حجازی کا کہنا تھا کہ قابض حکام نے بغیر پرمٹ تعمیر کرنے کے جرم میں اسے اپنا گھر گرانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی میں ان کو 80 ہزار شیکل [تقریبا 22 ہزار ڈالر] جرمانہ کردیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 13 سال قبل انہوں نے غیر قانونی تعمیر کے جرم میں ایک اسرائیلی عدالت کے حکم پر 36 ہزار شیکل [تقریبا 10 ہزار ڈالر] کا جرمانہ ادا کیا تھا۔
اسی دوران اسرائیلی پریس ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مغربی کنارے میں موجود یہودی آبادکاروں کی تعداد بڑھ کر وہاں موجود فلسطینیوں کی تعداد سے آدھی ہوگئی ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں 1 اعشاریہ 4 ملین فلسطینی رہائش پذیر ہیں جنکہ اس خطہ میں 7 لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں جن میں سے 385000 مغربی کنارے میں رہائش پذیر ہیں اور 300000 یروشلم میں۔
اخبار نے یہودی آبادی میں اس اضافے کو حیرت انگیز قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق دوسرے انتفاضہ کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
