فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی سرگرم تنظیم "مرکز برائے اسیران اسٹڈی سینٹر” نے ایک رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ اسرائیل کی کئی جیلوں میں مہلک امراض کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ کئی ماہ سے مختلف امراض میں مبتلا اسیران کو کسی قسم کی طبی امداد نہیں دی جا رہی ہے جس کے باعث اسیران کی زندگیاں خطرات میں گھرچکی ہیں۔
انسانی حقوق گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کی طرف سے کئی تحریری اور زبانی پیغامات ملے ہیں جن میں قید خانوں میں پھیلی بیماریوں کے خطرات اور ان کے مضمرات کے بارے میں انتباہ کیا گیا ہے۔ اسیران کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل انتظامیہ کو کئی بار تیزی سے پھیلتے امراض اور ان کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا ہے لیکن صہیونی جیلروں پر اسیران کی اپیلوں کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔ جیل انتظامیہ اور اسرائیلی محکمہ صحت قیدیوں کے مسائل کے بارے میں دانستہ لاپرواہی اور مبینہ غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں، جس سے قیدیوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بتایا ہے کہ فلسطینی اسیران نے خبردار کیا ہے کہ جیلوں میں تیزی سے پھیلتی بیماریوں سے اگر کسی اسیر کی جان کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری صہیونی انتظامیہ پرہوگی۔ اس کےعلاوہ اسیران نے اپنے ساتھ برتے جانے والے ظالمانہ سلوک کے خلاف جیلوں میں احتجاجی تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی ہے۔ اسیران کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ایک جیل میں میسرہ ابو حمدیہ نامی سرطان کے ایک اسیر بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جام شہادت نوش کرگیا تھا۔ اسیران مزید اپنے ساتھیوں کو اس طرح سسک سسک کر جان دینے کے واقعات کو برداشت نہیں کریں گے۔
مرکز برائے اسیران نے انسانی حقوق کی بڑی تنظیموں ریڈ کراس، اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے صہیونی ظالمانہ سلوک کا سختی سے نوٹس لیں اور بیمار قیدیوں کی جانیں بچانے میں ان کی مدد کریں۔
