فلسطینی انسانی حقوق کمیشن نے اسرائیل کے ھداریم جیل میں غلط علاج کی وجہ سے جزوی طور پر بینائی سے محروم ہونے والے فلسطینی اسیر کو ہونے والے نقصان کی ساری ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کی ہے۔
جیل میں موجود محمد توفیق غوادرہ کے گھر والوں نے بتایا کہ جیل میں توفیق کے دانت میں درد ہوا جس پر اسرائیلی ڈاکٹر نے اسے انجکشن لگایا جس سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی اسی فیصد اور دوسرے کی تیس فیصد ختم ہوگئی ہے۔ خدشہ ہے کہ آگے چند روز میں توفیق بینائی سے مکمل طور پر محروم ہوجائے گا۔
انسانی حقوق کمیشن نے بتایا کہ فلسطینی قیدی کے خاندان کو اس سے ملنے سے بھی روکا جارہا ہے۔ کمیشن نے مطالبہ کیا کہ جیلوں میں موجود اسیران کا علاج جیل کے مخصوص ڈاکٹروں کے بجائے اسرائیلی وزارت صحت کے تحت آنے والے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
بیان میں فلسطینی قیدی محمد توفیق کی بینائی جاتے رہنے کے اصل ذمہ داروں کے تعین کے لیے میڈیکل اور انسانی حقوق کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ محمد توفیق غوادرہ نو سال سے اسرائیل کے زیر حراست ہیں، انہیں تین مرتبہ عمر قید اور اضافی 35 سال کی قید سنائی گئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
