اسرائیل کی جیل”مجد” میں زیرحراست ایک معمر فلسطینی رکن قانون ساز کونسل72 سالہ احمد الحاج علی نے بلاجواز اپنی انتظامی حراست کے خلاف بدھ سے غیر معینہ مدت تک کے لیے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "عالمی یکجہتی فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فلسطینی رکن قانون ساز کونسل نے اسرائیلی عدالت کی جانب سے چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست کی سزاء کو مسترد کر دیا ہے اور اس سزا کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ شیخ الحاج علی نے بھوک ہڑتال ایک ایسے وقت میں شروع کی ہے جب ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ کی سماعت جاری ہے۔ انیس مارچ کو انہیں ایک مرتبہ پھرعدالت میں پیش کیا جائے گا۔ بھوک ہڑتالی رکن اسمبلی کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں بھوک ہڑتالی کی حیثیت سے پیش ہوں گے اور صہیونی عدالت کے سامنے بھی کھل کر احتجاج کریں گے۔
انسانی حقوق گروپ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ محروس رکن اسمبلی شیخ العلی پیرانہ سالی کے باعث کئی امراض کا شکار ہے۔ گذشتہ ایک سال سے انہیں مسلسل زکام کی شکایت ہے۔ اس کے علاوہ پیشاب کی تکلیف اور سماعت میں کمزوری جیسے امراض بھی انہیں گھیرے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی رکن اسمبلی کو گذشتہ برس سات جون کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس سے ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ حماس سے تعلق کے الزام میں انہیں چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈال دیا گیا۔ چھ ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں مزید چار ماہ کے لیے انتظامی تحویل میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے خلاف وہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

