(روزنامہ قدس ۔آنلائن خبر رسان ادارہ )اسرائیلی جیل میں محبوس فلسطینی خاتون نے اپنی بے جا انتظامی قید کے خلاف بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا۔
فلسطین سوسائٹی برائے اسیران کے مطابق فدا دماس نامی فلسطینی خاتون جن کا تعلق مغربی کنارے کے علاقے الخلیل سے ہے،اور گزشتہ سال مئی کے مہینے سے وہ انتظامی قید جیسے کالے قانون کے تحت اسیری کی زندگی گزار رہی ہیں ،نے جیل انتظامیہ کے ناروا روئیے سے تنگ آکر بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
فلسطینی اسیران سوسائٹی کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چھ ماہ کی قید گزارنے کے باوجود فدا کی قید میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کالے قانون انتظامی قید کے تحت صہیونی ریاست کسی بھی فلسطینی کو بغیر کسی الزام اور ثبوت کے چھ ماہ کے لیے قید میں رکھ سکتی ہے اور قیدی کی کسی بھی فورم پر شنوائی ممکن نہیں ہو پاتی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 5700 کے قریب فلسطینی جن میں خواتین ،بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں،انتظامی قید کے تحت مختلف اسرائیلی جیلوں میں قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں۔
